تہران،10؍اکتوبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)شام میں صدر بشارالاسد کی حمایت میں جنگ میں شمولیت سے انکار پرایرانی حکام نے صوبہ اہواز سے تعلق رکھنے والے ایک عرب فوجی افسر کو اذتیں دے کر قتل کردیا ہے۔پاسداران انقلاب کے اہلکاروں نے ایران کے عرب اکثریتی صوبہ الاھواز سے تعلق رکھنے والے ایک فوجی افسر 27سالہ محمد رضا الحمیداوی کو حراست میں لیا اور شام میں لڑنے سے انکار کی پاداش میں تشدد کرکے قتل کردیا ہے۔الحمیداوی ایرانی فوج میں جونیر افسر تھا۔ اس کے بارے میں سامنے آنے والی دیگر معلومات میں بتایا گیا ہے کہ مقتول شادی شدہ اور ایک بچے کا باپ بھی تھا۔ اسے کچھ عرصہ قبل شام میں لڑائی کے لیے بھیجنے کافیصلہ کیا گیا تو اس نے صاف انکار کردیا تھا۔ اس پر اسے گرفتار کرلیا گیا اور دوران حراست ایرانی انٹیلی جنس حکام نے اسے تشدد کرکے قتل کردیا ہے۔
ذرائع ابلاغ کے مطابق مقتول محمد رضا حمیداوی کا جسد خاکی گذشتہ سوموار کو اس کے اہل خانہ کے حوالے کیا گیا جہاں پولیس اور فوج کی بھاری نفری کے محاصرے میں اس کی تدفین کی گئی۔ مقتول کے اہل خانہ نے جنوب مشرقی اھواز کے الشکریات کے علاقے میں ایک تعزیتی کیمپ بھی لگایا جس کے آس پاس ایرانی پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی۔ الحمیداوی کے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں۔ اس کی گردن، ہاتھوں، پاؤں اور جسم کے بعض دیگر اعضاء کی ہڈیاں ٹوٹی ہوئی اور جسم پر گہرے زخم تھے۔ ایرانی فوجیوں نے عرب اہلکار کے قتل کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کیا ہے اور اس کی موت کی متعدد وجوہات بیان کی جا رہی ہیں۔ ایک دعویٰ یہ بھی کیا گیا ہے کہ وہ ہاٹ اٹیک سے ہلاک ہوا جب کہ اس کے جسم پر لگے زخم صاف بتاتے ہیں کہ وحشیانہ تشدد سے اس کی موت واقع ہوئی ہے۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ ان کا الحمیداوی کے ساتھ کئی ماہ سے رابطہ نہیں تھا۔ انہوں نے حکام سے رابطہ کرنے کی متعدد بار کوشش کی مگرانہیں خاموش رہنے کی تلقین کی جاتی۔